آج الیکشن کی گہما گہمی دیکھ کر دل اور دماغ دونوں ہی ایک عجیب سی کشمش میں مبتلا ہو گئے. میں آج بیٹھا سوچ رہا تھا کہ ہمارا نمائندہ جسے ہم عمومی طور پر عوامی نمائندہ بھی کہتے ہیں کس قدر ہماری قدر کر رہا ہے پر آخر کب تک؟ اب آپ یہ نہ سوچیے گا کہ میں یہ کہنے والا ہوں کہ عوامی نمائندہ کے دل میں ہمارے لیے محبت صرف 25 جولائی تک ہے. ان کے دل میں محبت ہو یہ نہ ہو پردر حقیقت ہم خود ہی اپنے آپ سے محبت نہیں کرتے. مثلاً نہ تو ہم اپنے بنیادی حقوق اور ضروریات سے واقف ہیں اور نہ ہی ہم میں اتنی ہمت ہوتی ہے کہ ہم اپنے عوامی نمائندوں سے ڈیمانڈ ہی کر سکیں. وجہ یہ ہے کہ ہم ڈرتے ہیں. اور یقین مانیں یہ ڈر ہماری آنے والی نسلوں کو مسلسل غلامی کی طرف دھکیل رہا ہے. وہی غلامی جو ہمارے اباواجداد نے ان جاگیر داروں اور وڈیروں کی کی اور اب ہم کر رہے ہیں شاید. الیکشن سے پہلے ہم اگر کسی جنازہ پر بھی جائیں تو ہم سیاسی گفتگو کو اپنے اور واجب کر لیتے ہیں پر در حقیقت اصل میں ہم خود ہی اپنی کی ہوئی باتوں پر غور نہیں کرتے یا پھر عمل نہیں کرتے.
میں نے اس تحریر کو خاموش ووٹر کا نام اس لیے دیا کہ عوامی نمائندہ کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر ہم اسے ووٹ تو دے دیتے ہیں پر آئندہ 5 سال ہم پھر خاموش ہی رہتے ہیں. شاید اپنی بے بسی پر یا پھر اپنی ہی ناں اہلی پر. افسوس کہ بول نہی پاتے اور ہم میں سے چند ایک جو بول پاتے ہیں ان کی کوئی سنتا نہیں جیسے اب یہ میری تحریر کوئی بھی نہیں پڑھے گا.
الیکشن سے پہلے بحثیت ایک ووٹر ہم سب ہی چشم تصور میں بے شمار خواب سجاتے ہیں تعلیم کے، اچھی سڑکوں کے، اچھے ہسپتال کے، پر الیکشن کے بعد ہم خاموش کیوں ہو جاتے ہیں؟
اس تحریر کو اگر کوئی پڑھے تو خود سے سوال کرے کہ ہم وہ خاموش کیوں ہے؟
اگر آپ یہ سوال کریں خود سے اور جواب پا لیں تو کمنٹ لازمی کرے گا.
اللہ پاکستان اور پاکستانیوں کی خیر کرے. اللہ حافظ.



0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں