آج کے لیڈر!!!تحریر: سبطین ساقی


السلام علیکم!قارئین کرام
آج کچھ بات کرتے ہیں بعض نام نہاد لیڈران کی.آج کے یہ لیڈران صرف جلسہ گاہوں میں ہی نظر آتے ہیں.جیسا کہ الیکشن قریب ہیں اور حسب معمول یہ عوامی حلقوں کا رخ کرتے ہیں.اپنے آپ کو عوام کا خیر خواہ اور مخلص ساتھی ظاہر کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں.ان لیڈران کی عوام عزت کرتی ہے اپنے کام کاج چھوڑ کر ان کے ساتھ وقت گزارتی ہے اور ان کے جلسوں میں دھکے کھاتی دکھائی دیتی ہے.افسوس کہ عوام ان کے اصل چہرے سے بے خبر ان کے قدم تک چومنے پہ آمادہ ہوتی ہے لیکن لیڈر صاحبان کی نظریں عوام کی بجائے ان کے ووٹوں پہ ہوتی ہیں.وہ عوامی جلسوں اور تقریبات میں شرکت ہی صرف ووٹوں کے حصول کے لیے کرتے ہیں.یہ لیڈران عوام کے جانے پہچانے اور آزمائے ہوئے ہیں.یہ وہی ہیں کہ جن کے ماضی پر اگر نگاہ دوڑائی جائے تو ہم دنگ رہ جائیں اور اپنے انتخاب کو کوسیں.مگر اب یہ پھر سے فصلی بٹیروں کی طرح عوامی حلقوں میں حاضر ہیں.یہ لیڈران وہی ہیں کہ جو بھاری اکثریت سے جیت کر بھی عوام کو الیکشن تک کے لیے خدا حافظ کہہ دیتے ہیں.یہ عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے اپنی تعریف اور دوسروں پہ تنقید کرتے کرتے ہی وقت ضائع کردیتے ہیں.بے شک ان کو عوامی مشکلات سے کوئی غرض نہیں ہوتی.ان کو اپنے بچوں اور دوست احباب و دلداروں کا مستقبل سب سے عزیز ہوتا ہے.وہ صرف اپنے بچوں اور ان چیف سپوٹران کے مستقبل کا ہی سوچتے رہتے ہیں نہ کہ عوام کا..یہ عوامی جلسوں میں بیش بہا دعوے کرتے ہیں مگر افسوس کہ یہ دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور عوام کی امید پر پانی پھیر دیا جاتا ہے.تعلیم کا مسئلہ دیکھیں یا صحت کا,بجلی کا دیکھیں یا گیس و پانی کا.کوئی ایسا وعدہ نہیں جوکہ انہوں نے وفا کیا ہو.جیسے اپنی اشیاء بیچنے کی خاطر دکاندار اس چیز کے متعدد فائدے بتاتا ہے اسی طرح ہمارے لیڈر صاحبان بھی صرف ووٹوں کے حصول کے لیے وسائل کی ایک لمبی فہرست اشتہارات و بینرز پر چھپواتے ہیں مگر افسوس کہ یہ سب اشتہارات و بینرز پر ہی رہ جاتا ہے.عملی کام صفر کا صفر اور عوام کو اگلے الیکشن کا انتظار...
فلیکس اور اشتہارات پر بے لوث خدمت,اعلیٰ تعلیم یافتہ,باکردار,نڈر قیادت,آپ کی امنگوں کے ترجمان وغیرہ کے القابات چھپوائے جانا معمول بن چکا ہے.
کچھ اسپتالوں کی حالت ایسے ہے کہ وہ کتوں کے علاج کے قابل بھی نہیں ہیں.کسی اسپتال میں سہولیات کا فقدان ہے تو کہیں پر سرکاری ادویات موجود نہیں.
تعلیم کا وعدہ دیکھیں تو ہمارے لیڈران نے پرائمری اور مڈل سے ہی طلباء کی تنظیم سازی کررکھی ہے.طلباے کرام ایک دوسرے کے خلاف بعرے بازی کرتے اور لڑتے جھگڑتے اہنا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں.اور ہمارے معزز لیڈران ان سب سے بے خبر اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں.کچھ علاقوں میں بجلی, گیس و پانی کی صورتحال بھی جوں کی توں ہے.لیکن کیا عوام اب بھی ان کے کارِ خیر سے بے خبر ہے؟؟؟کیا عوام اب بھی ان کے سبز باغ دیکھے جارہی ہے؟؟؟کیا عوام اب بھی ان کے فریب میں آسکتی؟؟؟
کیا عوام اب بھی ان سے کوئی امید لگائے بیٹھی ہے؟؟؟
ہم تو عوام کے لیے صرف دعا ہی کرسکتے ہیں اور کچھ نہیں.ہمارے ان لیڈران کو بھی سوچنا چاہیے کہ عوام نے ہمیں کس لیے منتخب کیا ہے.کیا اس لیے کہ آپ دنیا کی سیر کریں.کیا اس لیے کہ ہم ایک بھاری بھرکم پروٹوکول کے ساتھ یہاں وہاں گھومیں.کیا اس لیے کہ اگر ہم بیمار ہوں تو  بیرون ملک فسٹ کلاس پرائیوٹ اسپتال میں  علاج کرائیں اور اگر عوام کو کوئی تکلیف ہو تو انہیں سرکاری اسپتالوں میں دوا بھی میسر نہ ہو.کیا اسی لیے کہ ہمارے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کریں اور عوام کے بچے کسی ہائی ایس یا بس کے پیچھے لٹک کر جارہے ہوں اور کسی بچے کو یہ بھی نصیب نہ ہو.کیا اس لیے کہ غریب خواتین سڑکوں پر بچے جنیں.نہیں بلکل نہیں عوام نے تو اس لیے منتخب کیا تھا کہ یہ شخصیات اسمبلیوں میں ہماری نمائندگی کریں گی.ہمارے مسائل حل کرائیں گی.ایمانداری سے فیصلے کرے گی.ہماری آواز بنے گی.ہمیں ہمارے حقوق چھین کر دے گی.عوام کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس کو یہ منتخب کرنا چاہتے ہیں کیا وہ واقعی ایک دیانتدار اور مخلص ہے؟؟اس کا ماضی کیا تھا حال کیا ہے اور مسقبل کیا ہوگا.آج بھی اگر ملکی ترقی کرنی ہے تو وہ صرف ووٹ سے ممکن ہے.تبدیلی ووٹ سے ہی ممکن ہے.تو التماس ہے کہ ووٹ کا صحیح استعمال کریں تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو.پسماندہ علاقوں میں سہولیات قائم کی جائیں اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے.
        *والسلام*
Share on Whatsapp

About Jhang Tezz

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں