ملتان (جھنگ تیز) پیر آف تونسہ شریف خواجہ غلام اللہ بخش تونسوی نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے ختم نبوت قانون پر شب خون مارنے کی کوشش کی اب مطالبات رانا ثناء اللہ کے استعفیٰ سے آگے بڑھ چکے ہیں، 9جنوری کو سجادہ نشین سیال شریف کی ختم نبوت تحریک کے سلسلے میں ملتان سمیت جنوبی پنجاب سے علماء کرام، مشائخ سمیت لاکھوں عاشقان رسول ؐ داتادربار لاہور پہنچیں گے،
40روز تک بھی دھرنا دینا پڑا دیں گے، پیر حمید الدین سیالوی کی ختم نبوت تحریک میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان پریس کلب میں خواجہ مدثر، پیر آف بارو شریف لیہ خواجہ غلام قاسم، صاجزادہ عبد الغفور باروی، محمد احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا خواجہ غلام اللہ بخش تونسوی نے مزید کہا کہ ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق ہے حکومت کی ختم نبوت قانون میں ترمیم کی کوشش سے بدنیتی کھل کر سامنے آگئی ہے یہاں تک کہ ابھی تک حکومتی رہنما راجہ ظفر الحق تحققاتی رپورٹ سامنے نہیں لا سکے ہمارا مطالبہ ہے کہ ختم نبوت قانون میں ترمیم کی کوشش کے ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے اور جو وزراء اس میں ملوث ہیں فوری طور پر مستعفی ہوں انہوں نے کہا کہ ختم نبوت قانون پارلیمنٹ میں منظور ہوا اسی لئے اب تمام اراکین اسمبلی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کا ازالہ کریں اور استعفے دیں انہوں نے کہا کہ 9جنوری کو تونسہ شریف سے کارواں کا آغاز ہوگا اور جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع سے علماء ، مشائخ، لاکھوں کی تعداد میں عاشقان رسولؐ کے قافلے لاہور داتا دربار پہنچیں گے انہوں نے کہا کہ جب تک موجودہ حکمران ذمہ داروں کا تعین نہیں کرتے اور انہیں منطقی انجام تک نہیں پہنچاتے ان کی تحریک جاری رہے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ معمولی کریکٹر ہے ختم نبوت قانون میں جنہوں نے ترمیم کی کوشش کرتے ہو ئے تیار کیا ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے انہوں نے کہا کہ تونسہ شریف میں 8جنوری کو ہونے والی عالمی حق چار یار کانفرنس کو ختم نبوت کانفرنس میں تبدیل کر دیا ہے اس کانفرنس میں کثیر تعداد میں لوگ شرکت کریں گے



0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں